ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جے ڈی ایس جو چاہے کرے گی، کانگریس کیوں پریشان ہے، سابق وزیر اعلیٰ کمارسوامی کا دبے الفاظ میں بی جے پی سے مفاہمت کا دفاع

جے ڈی ایس جو چاہے کرے گی، کانگریس کیوں پریشان ہے، سابق وزیر اعلیٰ کمارسوامی کا دبے الفاظ میں بی جے پی سے مفاہمت کا دفاع

Mon, 01 Feb 2021 12:13:33    S.O. News Service

بنگلورویکم فروری (ایس او  نیوز)  سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی نے کہا ہے کہ جس وقت وہ سابقہ کانگریس اورجے ڈی ایس مخلوط حکومت میں وزیر اعلیٰ رہے اس وقت انہیں آزادی سے کام کرنے کا کانگریس کے رہنماؤں نے موقع ہی فراہم نہیں کیا۔ وزیر اعلیٰ ہو تے ہوئے وہ ریاست میں ایک کلرک کی طرح کام کرتے رہے۔باگل کوٹ میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مخلوط حکومت کے دورمیں انہوں نے بحیثیت وزیر اعلیٰ کوئی فیصلہ آزادی سے نہیں لیا۔ انتظامیہ میں کانگریس قائدین کی مداخلت سے وہ تنگ آچکے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف سابق وزیر اعلی سدارامیا کی طرف سے ان پر شدید دباؤ تھا تو دوسری طرف آبپاشی منصوبوں کو پورا کرنے کے لئے ان پر کئی حلقوں سے دباؤ رہا،ساتھ ہی انہوں نے کسانوں کے قرضو ں کی معافی کے لئے جو پہل کی تھی اس سے ریاست کے خزانہ پر پڑنے والے مالی دباؤ سے وہ ہمہ وقت پریشان رہے۔ جنتا دل (ایس) کو ایک موقع پرست جماعت قرار دیتے ہوئے سدارامیا نے جو بیان دیا اس پر کمارسوامی نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سدارامیا جب یہ کہہ چکے ہیں کہ جے ڈی ایس ایک سیاسی جماعت نہیں ہے اس کے ساتھ مفاہمت کر کے کانگریس پارٹی نے غلط کیا تھا تو جے ڈی ایس جو چاہے کرے اس سے سدارامیا کو کوئی فرق نہیں پڑنا چاہئے۔ جے ڈی ایس کی قیادت کیا فیصلہ لیتی ہے کس سے مفاہمت کرتی ہے اس کی فکر کرنا سدارامیا چھوڑ دیں،کانگریس سے جے ڈی ایس کا رشتہ اب پرانی بات ہے، اس سے دوبارہ مفاہمت کا کوئی منصوبہ نہیں۔

کمارسوامی نے کہا کہ ریاست میں انہیں دوبار وزیر اعلیٰ بننے کا موقع ملا لیکن دونوں مرتبہ وہ ریاست کے وزیر اعلیٰ کے طور پر آزادی سے کام نہ کر سکے۔ اب وہ ریاستی عوام سے یہی کہنا چاہتے ہیں کہ اگلے انتخابات میں وہ جے ڈی ایس کو پانچ سال کے لئے پوری اکثریت کے ساتھ اقتدار پر آنے کا موقع فراہم کریں تاکہ وہ آزادی کے ساتھ ریاست کو ترقی پر لے جانے کے فیصلہ کر سکیں۔ اس کے بعد بھی اگر وہ ناکام رہے تو سیاست سے کنارہ کش ہو جائیں گے اور بحیثیت سیاسی جماعت جنتا دل(ایس) کو تحلیل کردیں گے۔اقلیتی طبقہ سے مخاطب ہو کر انہوں نے کہا کہ اس طبقے کی فلاح کے لئے انہوں نے بہت کچھ کیا ہے اور آنے والے دنوں میں بھی کرنا چاہتے ہیں، اس کے لئے اقلیتی عوام کا ساتھ چاہئے۔ کرناٹک میں موجودہ بی جے پی حکومت کو نشانہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ با ر بار بی جے پی قیاد ت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ریاست میں ڈبل انجن کی حکومت قائم ہے۔ جبکہ اس حکومت میں ریاست کی کوئی ترقی نہیں ہو رہی ہے۔ کمارسوامی نے اس الزام کی بھی تردید کی کہ ان کی پارٹی کرناٹک میں بی جے پی کی ’بی‘ ٹیم بن چکی ہے۔


Share: